ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر شمسو بی عرف عائشہ فائرنگ سے جاں بحق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیکسلا میں سوشل میڈیا پر معروف ٹک ٹاکر شمسو بی عرف عائشہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، واقعے میں ان کے بہن بھائی بھی زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

latest urdu news

گاڑی پر فائرنگ، ٹک ٹاکر جاں بحق

ٹیکسلا میں معروف ٹک ٹاکر شمسو بی عرف عائشہ کو مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں قتل، اقدام قتل اور اعانتِ جرم کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کے موبائل فون پر کاشف نامی شخص کی کال آئی، جس کے بعد وہ اپنے بھائی اور بہن کے ہمراہ گھر سے باہر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد اہلخانہ کو اطلاع ملی کہ عائشہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہے۔

اطلاع ملنے پر مقتولہ کے والد ٹی ایچ کیو اسپتال ٹیکسلا پہنچے، جہاں انہوں نے اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کی۔ واقعے کے دوران مقتولہ کے بہن اور بھائی بھی زخمی ہوئے۔

فائرنگ کے بعد گاڑی ڈمپر سے ٹکرا گئی

ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار افراد نے گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں شمسو بی عرف عائشہ کی گردن پر گولی لگی، جس کے باعث گاڑی بے قابو ہوگئی اور ایک ڈمپر سے جا ٹکرائی۔

رپورٹس کے مطابق حادثے کے نتیجے میں مقتولہ کے بہن بھائی بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھے شخص نے گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔ مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ملزمان کو دوبارہ سامنے آنے کی صورت میں شناخت کرسکتا ہے۔

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

پولیس کی تفتیش جاری

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کردی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور واقعے سے متعلق دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق شمسو بی عرف عائشہ گزشتہ کئی برس سے ٹک ٹاک پر سرگرم تھیں اور ان کے اکاؤنٹ پر تقریباً 13 لاکھ فالوورز تھے۔

بعض رپورٹس میں مقتولہ اور بعض افراد کے درمیان مبینہ لین دین کے تنازع اور دھمکیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس معاملے کی حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔ اس لیے پولیس کی تحقیقات اور شواہد سامنے آنے تک کسی بھی ممکنہ وجہ یا ملزم کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ واقعے کی مزید تفصیلات تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ سامنے آنے کا امکان ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter