آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے انتخابی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد باہمی مشاورت سے قائم کیا گیا ہے اور اس کا مقصد انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (آزاد جموں و کشمیر) کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیاسی اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جے یو آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد دونوں جماعتوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا ہے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھی ہے۔
دو حلقوں میں مشترکہ امیدوار
چوہدری یاسین نے اعلان کیا کہ حلقہ ایل اے 14 اور حلقہ ایل اے 23 میں جے یو آئی کے امیدوار دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔ ان کے مطابق ان حلقوں میں دونوں جماعتیں مشترکہ انتخابی مہم چلائیں گی تاکہ اتحاد کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس انتخابی تعاون سے دونوں جماعتوں کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوگی اور آئندہ قانون ساز اسمبلی میں بہتر نمائندگی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی حتمی پارٹی پوزیشن سامنے آگئی، پیپلز پارٹی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گئی
جے یو آئی کی حمایت کا اعلان
اس موقع پر جے یو آئی آزاد جموں و کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کی جماعت اور پیپلز پارٹی کے درمیان باضابطہ انتخابی اتحاد قائم ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی دو مخصوص حلقوں میں جے یو آئی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی، جبکہ اس کے بدلے میں جے یو آئی دیگر تمام حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔ ان کے مطابق یہ اتحاد باہمی اعتماد اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔
27 جولائی کو ہوں گے انتخابات
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی مہم، امیدواروں کے اعلان اور ممکنہ اتحادوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی اتحاد بعض حلقوں میں مقابلے کی نوعیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ووٹرز کی رائے سے ہوگا۔ آئندہ چند ہفتوں میں مختلف جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام نئے قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے انتخاب کے لیے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
