تہران: ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے کہا ہے کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور قومی وقار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران پر بیرونی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے اسے جھکانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
یہ بات انہوں نے تہران میں آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ملکی پالیسی، علاقائی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
جنگ سے بچاؤ لیکن دفاع پر سمجھوتہ نہیں
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں، لیکن اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ ان کے مطابق ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا اور نہ ہی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال ایک غیر یقینی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی مستقل امن، اور اس صورتحال کو ختم کرنا ضروری ہے۔
قومی اتحاد پر زور
Masoud Pezeshkian نے اپنے خطاب میں قومی اتحاد کو سب سے اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایران کے اندر تقسیم پیدا کی جائے، تاہم ایرانی عوام اور قیادت کے درمیان مضبوط اتحاد ان عزائم کو ناکام بنا رہا ہے۔
ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں پر غور، پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف علاقائی ممالک کو اکٹھا کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں، جو ان کے مطابق ایرانی سفارت کاری کی کامیابی ہے۔
سفارت کاری اور مذاکرات کا اشارہ
ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت سفارتی تعطل ختم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی تاکہ موجودہ مسائل کو حل کیا جا سکے۔
علاقائی صورتحال پر تبصرہ
خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کو طاقت کے ذریعے سرینڈر پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حالیہ عالمی تنازعات اور مثالیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ دباؤ اور جنگی حکمت عملی دیرپا حل فراہم نہیں کرتیں۔
مجموعی پیغام
ایرانی صدر کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایران امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری، قومی وقار اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی احترام اور مذاکراتی راستے کو اپنانا ضروری ہے۔
