خواجہ سعد رفیق کا ن لیگ کو گلگت بلتستان میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما Khawaja Saad Rafique نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کیا جائے، البتہ پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے حکومت سازی کے عمل میں تعاون جاری رکھا جائے۔

latest urdu news

خواجہ سعد رفیق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے یہ تاثر درست نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو پارٹی کی کارکردگی اتنی کمزور نہیں جتنی بعض حلقوں کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے۔

انتخابات میں کارکردگی پر مؤقف

لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں 8 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پارٹی کی حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند دیگر حلقوں میں بھی پارٹی امیدوار بہت کم ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچار ہوئے۔

خواجہ سعد رفیق کے مطابق ان نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو انتخابی عمل میں اپنی موجودگی اور عوامی حمایت کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔

اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا کہ گلگت بلتستان میں اپوزیشن کا کردار اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور مؤثر اپوزیشن جمہوری نظام کے لیے ضروری ہوتی ہے اور مسلم لیگ (ن) اس کردار کو بہتر انداز میں ادا کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی عوامی مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور حکومت کی کارکردگی پر مؤثر نگرانی رکھی جا سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی سے تعاون کا مشورہ

خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی تجویز دی کہ پارلیمانی نظام کے تسلسل اور سیاسی استحکام کے لیے مسلم لیگ (ن) حکومت سازی کے عمل میں Pakistan Peoples Party کے ساتھ تعاون کرے، تاہم کسی وزارت یا سرکاری عہدے کا حصہ نہ بنے۔

گلگت بلتستان انتخابات: قمر زمان کائرہ نے پولنگ کے عمل پر تحفظات کا اظہار کر دیا

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایک طرف جمہوری عمل کو تقویت ملے گی اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اپنی سیاسی شناخت اور مؤقف کو بھی برقرار رکھ سکے گی۔

گلگت بلتستان کی سیاست میں نئی بحث

خواجہ سعد رفیق کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ممکنہ اتحادیوں، آزاد ارکان اور حکومت کے خدوخال پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز نہ صرف گلگت بلتستان کی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی اہم سیاسی اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی پر نظریں

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ تاہم خواجہ سعد رفیق کے بیان نے پارٹی کے اندر ممکنہ سیاسی حکمت عملی کے بارے میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت میں شمولیت یا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ آئندہ دنوں میں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال اور مختلف جماعتوں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter