ایران کا امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، کارروائی کی ویڈیو بھی جاری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تہران: ایران نے خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور اس کارروائی کی مبینہ ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے حالیہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ اس پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

latest urdu news

ایرانی فوجی کمان کے مرکزی ادارے، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز، کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی جنوبی ایران میں ہونے والی مبینہ امریکی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی۔

میزائل حملوں کی ویڈیو جاری

ایرانی میڈیا نے حملوں سے متعلق ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں مختلف میزائلوں کے فائر کیے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں قدر، عماد اور خیبر شکن میزائل استعمال کیے گئے۔

ویڈیو میں میزائلوں کے لانچ ہونے اور اپنے اہداف کی جانب بڑھنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ویڈیو کی مکمل تصدیق اور اس میں دکھائے گئے اہداف کی حقیقت کی فوری طور پر توثیق نہیں ہو سکی۔

کن امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ؟

رپورٹس کے مطابق ایران نے بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات، جانی نقصان یا فوجی اثرات کے بارے میں فوری طور پر کوئی مستند تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ، سفارتی حل پر زور

امریکی حکام کی جانب سے بھی ابتدائی مرحلے میں ان دعوؤں پر مکمل ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کے باعث صورتحال پر غیر یقینی برقرار ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید سیاسی اور عسکری تناؤ کا شکار ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کے کئی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی ردعمل پر نظریں

عالمی برادری کی توجہ اب امریکا کے ممکنہ ردعمل اور خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر مرکوز ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کشیدگی مزید بڑھنے کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور آنے والے دنوں میں ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے بیانات اور اقدامات اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter