ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی، کیونکہ واشنگٹن نے تہران کی تجاویز کے جواب میں کسی ٹھوس رعایت کا اظہار نہیں کیا۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
امریکا کی مبینہ شرائط کیا ہیں؟
ایرانی خبر رساں اداروں، خصوصاً فارس نیوز ایجنسی اور مہر نیوز کے مطابق امریکا نے مذاکرات کے جواب میں ایک فہرست پیش کی ہے جس میں متعدد سخت شرائط شامل ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق امریکی مطالبات میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرتے ہوئے صرف ایک تنصیب کو فعال رکھے اور افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے۔
مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران سے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اعتراضات
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی شرائط میں ایران کی منجمد مالی اثاثوں کی مکمل بحالی شامل نہیں، بلکہ صرف محدود ریلیف کی بات کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق منجمد اثاثوں کا صرف ایک چھوٹا حصہ جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ، ممکنہ فضائی حملوں اور ناکہ بندی سے مذاکرات پر زور
مزید یہ کہ امریکا نے جنگ بندی کو براہِ راست مذاکراتی پیش رفت سے مشروط کرنے کا مؤقف اپنایا ہے، جس پر تہران کی جانب سے تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایران کی مذاکراتی پوزیشن
رپورٹس کے مطابق ایران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو چند بنیادی شرائط سے مشروط کیا ہے۔ ان میں تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز میں ایران کے حقوق کا اعتراف شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک یہ بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، کسی بھی معاہدے کو پائیدار اور قابلِ عمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
مذاکراتی عمل پر سوالات
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی نوعیت اس وقت بنیادی نوعیت کی ہے، جس میں اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ اگر فریقین اپنے مؤقف میں لچک پیدا نہیں کرتے تو مذاکرات طویل تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی اور توانائی و سیکیورٹی کے مسائل کو بھی متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر خلیج کے حساس آبی راستوں کے تناظر میں۔
