جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد گاؤں نذرِ آتش، لڑکی کے والد نے الزامات مسترد کر دیے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پسند کی شادی کے بعد جیکب آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور پولیس کے بیانات کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

latest urdu news

لڑکی کے والد کا مؤقف سامنے آگیا

سندھ کے ضلع جیکب آباد میں پسند کی شادی کے بعد ایک گاؤں کو آگ لگانے کے واقعے پر لڑکی کے والد رفیق چنہ کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے۔

رفیق چنہ کے مطابق ان کی دو بیٹیوں کو رات کے وقت اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بیٹی کی عمر صرف 14 سال جبکہ دوسری کی عمر 4 سال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بیٹی کی شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے کیونکہ ان کے مطابق نہ صرف ان کی بیٹیاں ان سے جدا ہوئیں بلکہ ان کے گاؤں پر بھی فائرنگ کی گئی۔

گھروں کو آگ لگانے کے الزامات

لڑکی کے والد نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ چنہ برادری نے برڑو برادری کے گھروں کو آگ لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خود اس واقعے کا علم بعد میں ہوا اور ان کے خاندان کا اس آگ زنی سے کوئی تعلق نہیں۔

رفیق چنہ نے الزام لگایا کہ مخالفین نے خود اپنے گھروں کو آگ لگانے کے بعد ان کے خاندان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی۔ تاہم پولیس کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کیا کہتی ہے؟

ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ گاؤں صدیق آرائیں اور گاؤں غازی خان چنہ سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے اور لڑکی نے حیدرآباد کی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی۔

ٹھل میں پسند کی شادی پر تنازع، مخالفین نے گاؤں کو آگ لگا دی

پولیس حکام کے مطابق اسی شادی کے ردعمل میں مشتعل مسلح افراد نے متعدد گھروں کو آگ لگا دی۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے شدید مالی نقصان کی بھی شکایت کی ہے۔

مقدمہ درج، گرفتاریاں بھی ہوئیں

پولیس کے مطابق برڑو برادری کے گھروں کو جلانے کے الزام میں چنہ برادری کے 32 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اب تک کم از کم 5 ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جارہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

سندھ میں قبائلی تنازعات اور پسند کی شادیوں کے واقعات

سندھ کے دیہی علاقوں میں پسند کی شادیوں پر تنازعات اور برادریوں کے درمیان جھگڑوں کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض اوقات ایسے معاملات شدت اختیار کرکے اجتماعی تصادم، جلاؤ گھیراؤ اور نقل مکانی تک پہنچ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی کارروائی، سماجی آگاہی اور مقامی سطح پر مصالحتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter