اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر Rana Sanaullah نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی تو اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی صورتحال میں بھارت کے Baglihar Dam کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو فوری طور پر مختلف مقامات پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانی چاہیے۔ ان کے مطابق 3 سے 4 نئے ذخائر بنائے جائیں تاکہ اگر بھارت پانی چھوڑے تو اسے محفوظ کیا جا سکے اور اگر روکے تو موجود وسائل کو استعمال میں لایا جا سکے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ اس حوالے سے واپڈا اور حکومتی سطح پر حکمت عملی زیر غور ہے، جبکہ Chenab River کے مقام پر نئے ذخائر بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں، خاص طور پر سندھ کی جانب سے کچھ خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں Kalabagh Dam نہ بنانا ایک اہم فیصلہ تھا، لیکن اب موجودہ حالات میں پانی کے ذخائر کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں۔
دریائے چناب میں پانی کی شدید کمی: بھارت کی آبی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے
مشیر وزیراعظم نے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے سامنے بھارت کا مؤقف بے نقاب کرے۔ ان کے مطابق ملک کے اندر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ بندی برقرار ہے اور پاکستان مختلف فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر کوئی مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
