لندن میراتھون میں تاریخ رقم: پہلی بار دو ایتھلیٹس نے 2 گھنٹے سے کم وقت میں ریس مکمل کر لی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لانگ ڈسٹنس رننگ کی دنیا میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب لندن میراتھون کے 46ویں ایڈیشن میں دو ایتھلیٹس نے پہلی بار آفیشل طور پر 2 گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون مکمل کر کے نیا سنگِ میل عبور کر لیا۔ یہ کامیابی طویل فاصلے کی دوڑ میں انسانی صلاحیتوں کی نئی حدوں کی عکاسی کرتی ہے۔

latest urdu news

نئی تاریخ اور عالمی ریکارڈ

کینیا کے رنر سباسٹین ساوے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک گھنٹہ 59 منٹ اور 30 سیکنڈز میں ریس مکمل کی، جو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے فوراً بعد ایتھوپیا کے یومیف کجیلچا نے بھی غیر معمولی دوڑ لگاتے ہوئے ایک گھنٹہ 59 منٹ اور 41 سیکنڈز میں فاصلہ طے کیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی آفیشل میراتھون میں دو ایتھلیٹس نے بیک وقت 2 گھنٹے کی حد کو عبور کیا ہو، جو اس کھیل کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

پرانے ریکارڈ کا پس منظر

اس سے قبل آفیشل میراتھون کا عالمی ریکارڈ 2 گھنٹے اور 35 سیکنڈز تھا، جو کیلون کپٹن نے 2023 کے شکاگو میراتھون میں قائم کیا تھا۔ اس ریکارڈ کو طویل عرصے تک ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا رہا۔

تاہم حالیہ کارکردگی نے نہ صرف اس ریکارڈ کو توڑا بلکہ یہ ثابت کیا کہ جدید تربیت، بہتر حکمت عملی اور سائنسی اندازِ تیاری کے ذریعے مزید بہتری ممکن ہے۔

چین کا تیز رفتار انسان نما روبوٹ، یوسین بولٹ کی رفتار کے قریب پہنچ گیا

غیر سرکاری کارکردگی اور اس کی اہمیت

ماضی میں کینیا ہی کے لیجنڈری رنر ایلیوڈ کپکوجی نے ایک غیر سرکاری ایونٹ میں 1 گھنٹہ 59 منٹ 40 سیکنڈز میں میراتھون مکمل کیا تھا۔ اگرچہ اس کارکردگی کو آفیشل ریکارڈ کا درجہ حاصل نہیں، لیکن اسے عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

اب لندن میراتھون میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی اس غیر سرکاری حد کو باضابطہ طور پر عبور کرنے کے مترادف ہے۔

مستقبل پر اثرات

ماہرین کے مطابق یہ ریکارڈ نہ صرف ایتھلیٹکس کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے گا بلکہ آنے والے وقت میں مزید ایتھلیٹس کو اس حد سے آگے جانے کی ترغیب بھی دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کوچنگ، نیوٹریشن اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی مزید جدت متوقع ہے۔

لندن میراتھون 2026 کا یہ ایڈیشن تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ دو ایتھلیٹس کا بیک وقت 2 گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون مکمل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیلوں میں ریکارڈز ہمیشہ ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں، اور انسانی صلاحیتوں کی حدیں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter