یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈر لین نے کہا ہے کہ جب تک لبنان بدامنی اور جنگی صورتحال کا شکار رہے گا، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مکمل استحکام کا تصور ممکن نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
لبنان کی خودمختاری کے احترام پر زور
ایک پریس کانفرنس کے دوران ارسلا وون ڈر لین نے تنازع میں شامل تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کریں اور اس پر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر روکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل کشیدگی نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیوں اور حملوں کا تسلسل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جس کے اثرات علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے کردار کی تعریف
یورپی کمیشن کی صدر نے اس موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقین کے درمیان رابطے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جو ایک مثبت سفارتی پیش رفت ہے۔
جنگ کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا: پوپ لیو کا ٹرمپ کی تنقید پر دوٹوک ردعمل
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو یہ امن عمل متاثر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں جاری سفارتی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔
آبنائے ہرمز اور توانائی کی صورتحال
ارسلا وون ڈر لین نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی توانائی تجارت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ 44 دنوں کے تنازع کے دوران یورپ کے فیول امپورٹ بل میں تقریباً 22 ارب یورو کا اضافہ ہوا ہے، جو عالمی توانائی بحران کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی صورتحال اور خدشات
یورپی کمیشن کی صدر کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی طور پر بھی دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی کوششوں میں تیزی ناگزیر ہے۔
مجموعی طور پر ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری خطے کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور لبنان میں امن کو پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کی کنجی تصور کیا جا رہا ہے۔
