ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اہم بیان سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایک نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول ادا کرنا ہوگا۔ اس اعلان نے عالمی توانائی اور بحری تجارت کے حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر نیا کنٹرول نظام
ایرانی پارلیمانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران قومی مفادات کے تحت آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور انتظامی نظام کو مزید منظم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس نئے نظام کے تحت ہر جہاز کو گزرنے کے لیے ٹول ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس خطے میں اپنی پالیسیوں کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے اور سمندری راستوں کی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ایران اپنے تزویراتی مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔
تیل تنصیبات کی بحالی کا عمل
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمفر نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد متاثر ہونے والی تیل ریفائننگ صلاحیت کو بحال کرنے پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو ماہ میں ملک کی ریفائننگ صلاحیت 70 سے 80 فیصد تک بحال ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاوان ریفائنری کا ایک حصہ تقریباً 10 دن کے اندر دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، جو توانائی کے شعبے میں بحالی کی ابتدائی علامت ہوگا۔ یہ اقدامات ایران کی توانائی پیداوار کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
ایران–امریکا مذاکرات: “آخری اور بہترین آفر” پیش کر دی گئی، فیصلہ ایران پر چھوڑ دیا گیا
عالمی تجارت اور خطے پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا راستہ ہے، جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس لیے کسی بھی نئے کنٹرول یا ٹول نظام کا اعلان عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام نافذ ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف شپنگ کمپنیوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود جغرافیائی کشیدگی میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
مجموعی صورتحال
ایران کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سیاسی اور سکیورٹی تناؤ موجود ہے۔ ایک طرف تیل تنصیبات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری طرف سمندری راستوں پر نئے انتظامی اقدامات عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
