وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قوم سے خطاب میں انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی نمائندے پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جہاں آج دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے بجائے اب امن اور بات چیت کی فضا قائم ہو رہی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق حالیہ نازک صورتحال میں پاکستانی قیادت نے اعتماد اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں فریقین کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جو ممالک کل تک آمنے سامنے تھے، اب وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگرچہ عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن اصل چیلنج مستقل اور دیرپا امن کا قیام ہے، جسے انہوں نے نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو تاریخ ساز قرار دیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مذاکرات پر دنیا کی نظریں: ناکامی کی صورت میں سخت کارروائی کا عندیہ
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو بے شمار قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی، اور پاکستان اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی مکمل سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔
