تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی واضح طور پر تردید کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی، بلکہ پیغامات صرف ثالث ممالک کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے گئے ہیں۔
ایرانی موقف اور تحفظات
ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو بھیجی گئی تجاویز زیادہ تر غیر حقیقت پسندانہ، غیر معقول اور حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی تھیں۔ ان کے مطابق، ایسے حالات میں کسی بامعنی پیش رفت کا امکان محدود ہو جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران ہر معاملے کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے متوازن اور قابلِ عمل تجاویز ضروری ہیں۔
علاقائی کوششیں اور سفارتی کردار
ایرانی ترجمان نے علاقائی ممالک کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں تیسرے ممالک کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایران نے براہِ راست بات چیت کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران کا سخت انتباہ: امریکی جارحیت کا جواب دیا جائے گا
عالمی تناظر اور تنازعات
اسماعیل بقائی نے یوکرین تنازع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی سے جوڑنا ایک "تباہ کن غلط فہمی” ہے۔ ان کے مطابق، یہ دونوں معاملات الگ نوعیت کے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے منسلک کرنا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔
پس منظر اور اہمیت
ایران اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت یا بیان عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران کا یہ مؤقف خطے کی سفارتی حرکیات کو سمجھنے میں اہمیت رکھتا ہے۔
