ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی خاتم الانبیا فورس کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی امریکی جارحیت یا قبضے کی کوشش کا نتیجہ امریکی فوجیوں کی “ذلت آمیز قید” کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی یا خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی کوشش کی تو ایران سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی پیش قدمی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
امریکا کو براہِ راست پیغام
ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا کی پالیسیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ اور ایشیا کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بارہا دھمکیاں دی گئی ہیں، تاہم ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
اسرائیل اور عالمی سیاست پر تنقید
ایرانی ترجمان نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی پالیسیوں پر اس کا اثر ہے، اور اس تناظر میں انہوں نے اسرائیلی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایران این پی ٹی معاہدے سے علیحدگی پر غور: امریکا اور اسرائیل کی جاسوسی روکنے کی کوشش
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ایران کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی قیادت کا مؤقف
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا کہ امریکا سفارتی کوششوں کو ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سرحدوں اور مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ اثرات
موجودہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، بلکہ بعض پہلوؤں سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے سخت بیانات نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
