اسرائیل کے صدر Isaac Herzog نے وزیراعظم Benjamin Netanyahu کی جانب سے کرپشن الزامات میں دائر معافی کی درخواست پر فوری فیصلہ دینے کے بجائے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر نے یہ درخواست وزارتِ انصاف کو واپس بھیج دی ہے تاکہ اس معاملے پر مزید قانونی مواد اور سابقہ مثالوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
قانونی پیچیدگیاں اور مزید مواد کی ضرورت
صدر کے قانونی مشیر کے مطابق جاری عدالتی کارروائی کے دوران معافی دینے کے اختیارات کے حوالے سے مزید قانونی رہنمائی درکار ہے۔ خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں سفارتی یا سکیورٹی نوعیت کے عوامل شامل ہوں، وہاں فیصلہ مزید حساس اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف ایک پیشہ ورانہ اور قانونی جائزے کا حصہ ہے اور اس سے کسی حتمی فیصلے کا عندیہ نہیں ملتا۔
جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کی گفتگو میں کشیدگی، برطانوی میڈیا کا دعویٰ
سیاسی اور عالمی ردعمل
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب سابق امریکی صدر Donald Trump نے بھی نیتن یاہو کے حق میں آواز اٹھائی اور ان کے لیے معافی کی حمایت کی۔
دوسری جانب امریکی ری پبلکن مبصر Tucker Carlson نے نیتن یاہو کے خلاف کرپشن الزامات سے متعلق ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے، جس میں اسرائیلی پولیس کی تحقیقات سے متعلق مواد شامل بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس فلم پر اسرائیل میں پابندی عائد ہے۔
پس منظر: کرپشن مقدمات
وزیراعظم نیتن یاہو کو مختلف کرپشن مقدمات کا سامنا ہے، جن میں بدعنوانی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات شامل ہیں۔ یہ مقدمات کئی سالوں سے جاری ہیں اور اسرائیلی سیاست میں ایک اہم تنازع بنے ہوئے ہیں۔
معافی کی درخواست اسی تناظر میں دی گئی تھی، تاہم صدر کی جانب سے مزید وضاحت طلب کیے جانے کے بعد اس معاملے میں فیصلہ فی الحال مؤخر ہو گیا ہے۔
