برطانوی شہر ڈربی میں کار سوار کا حملہ، 7 افراد زخمی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

برطانیہ کے شہر ڈربی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک بھارتی نژاد شخص نے گاڑی کے ذریعے راہ گیروں کو ٹکر مار کر کم از کم 7 افراد کو زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ 28 مارچ کی شب ڈربی سٹی سینٹر میں پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

latest urdu news

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، واقعہ رات تقریباً ساڑھے نو بجے پیش آیا جب ملزم نے اچانک گاڑی ہجوم کی طرف موڑ دی۔ عینی شاہدین کے مطابق، صورتحال انتہائی خطرناک تھی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

زخمیوں کی حالت اور امدادی کارروائیاں

پولیس کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے کچھ کی حالت تشویشناک تھی، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ کسی کی جان کو فوری خطرہ لاحق نہیں بتایا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ریسکیو ٹیمیں اور پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

ملزم کی گرفتاری اور الزامات

ڈربی شائر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی عمر 30 سال سے زائد ہے، تاہم اس کی شناخت فی الحال ظاہر نہیں کی گئی۔

ملزم کے خلاف اقدام قتل، خطرناک ڈرائیونگ اور لوگوں کو زخمی کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ دانستہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔

سیکیورٹی اقدامات اور عوام کو یقین دہانی

واقعے کے بعد پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر جائے وقوعہ کو کچھ وقت کے لیے بند رکھا تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ انتہائی تشویشناک تھا، تاہم فی الحال عوام کو کسی بڑے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

تحقیقات کا دائرہ کار

پولیس اس وقت واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ اس میں ملزم کی ذہنی حالت، ممکنہ ذاتی تنازعات یا دیگر عوامل کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ برطانیہ میں شہری سلامتی اور ٹریفک سے جڑے خطرات کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ حکام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter