امریکا نے ایران میں فوجی اہداف حاصل کر لیے، جلد انخلا کا عندیہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں اپنے بیشتر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور جلد وہاں سے انخلا کا ارادہ رکھتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ کارروائیوں کا بنیادی ہدف حاصل کیا جا چکا ہے، جس کے بعد اب امریکی افواج کی واپسی زیر غور ہے۔

latest urdu news

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی ایران کی حکومت کو کمزور کرنا تھی، اور اس مقصد کے حصول کے لیے مخصوص فوجی اقدامات کیے گئے۔

جنگ جاری رکھنے کا عندیہ

اگرچہ نائب صدر نے جلد انخلا کی بات کی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جاری جنگ کو کچھ عرصے تک مزید جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ایران کی حکومتی ڈھانچے پر دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ اسے مزید کمزور کیا جا سکے۔

یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا ایک متوازن حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس میں ایک طرف فوجی اہداف مکمل کرنے کے بعد انخلا کی تیاری ہے، جبکہ دوسری جانب دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔

جے ڈی وینس اور نیتن یاہو کی گفتگو میں کشیدگی، برطانوی میڈیا کا دعویٰ

تیل کی قیمتوں پر اثرات

جے ڈی وینس نے اس تنازع کے عالمی معیشت پر اثرات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ قیمتیں جلد معمول پر آ جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی منڈی کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہ خطہ توانائی کی سپلائی کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

مجموعی صورتحال

مجموعی طور پر امریکی نائب صدر کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکا اپنی فوجی حکمت عملی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں اہداف کے حصول کے بعد واپسی اور دباؤ کی پالیسی ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔

تاہم، عالمی سطح پر اس بیان کے اثرات کا انحصار آئندہ پیش رفت، سفارتی کوششوں اور خطے میں استحکام پر ہوگا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter