ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات دراصل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق خبریں جعلی ہیں اور ان کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام حملہ آوروں کے خلاف سخت ردعمل اور کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکی صدر کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی اور خطے میں کشیدگی کے تناظر میں امریکا اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
ایران کی جنگ بندی کیلئے 6 اسٹریٹیجک شرائط، فوری سیزفائر کا امکان مسترد
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، جبکہ خطے کے چند ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
مزید برآں، ایرانی وزیر خارجہ نے روس اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے رابطے بھی کیے، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی وزیر خارجہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول عمل کہا۔
