پیٹرول کے 3 بحری جہاز آج پاکستان پہنچنے کا امکان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ آج پیٹرول سے بھرے تین بحری جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے جس سے ملک میں ایندھن کی سپلائی بہتر ہونے کا امکان ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی توانائی صورتحال اور ممکنہ بحران پر تفصیلی غور کیا۔

اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کا ماہانہ تیل درآمدی بل تقریباً 600 ملین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قطر کی جانب سے “فورس میجر” کے اعلان کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت نے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات سے متبادل سپلائی کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل سمندری راستوں کے ذریعے تیل کی ترسیل یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت نے بتایا کہ کل تک پیٹرول کے تین بحری جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے جس سے ایندھن کی سپلائی میں بہتری آنے کی امید ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ، پیٹرول کی قیمت 1.15 ڈالر فی لیٹر

دوسری جانب کراچی سمیت ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر ذخیرہ اندوزی کے خدشے کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایندھن کے ذخائر کی نگرانی کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بچت سے متعلق تجاویز کابینہ میں پیش کی جائیں گی، جبکہ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایندھن کی بچت ناگزیر ہے تاکہ دستیاب ذخائر زیادہ عرصے تک چل سکیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم لیوی میں ریلیف کی درخواست کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter