اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قیمتیں بڑھانے کا فائدہ براہِ راست آئل کمپنیوں کو پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئل کمپنیوں کے پاس جو پیٹرول اور ڈیزل اس وقت فروخت کے لیے موجود ہے وہ 28 فروری سے پہلے کم قیمت پر خریدا گیا تھا، اس لیے اس مرحلے پر قیمتوں میں اضافہ کرنا کمپنیوں کو اضافی منافع دینے کے مترادف ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق حکومت کو اس وقت قیمتیں بڑھانے کی کوئی فوری ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس فیصلے کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ، پیٹرول کی قیمت 1.15 ڈالر فی لیٹر
انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ اس فیصلے سے کیا جب حکومت نے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے شوگر مل مالکان کا منافع بڑھ گیا تھا جبکہ عام عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑی۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو ایسے فیصلے کرتے وقت عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مہنگائی کا دباؤ مزید نہ بڑھے۔
