جہلم میں ڈکیتی کی واردات میں ملوث پولیس ملازم کو ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کے تھانہ چوٹالہ کے علاقہ ڈھوک رجو میں مویشیوں اور نقدی چھیننے کی واردات میں ملوث ڈکیت گینگ کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ لوٹی گئی گاڑی، مویشی، نقدی اور موبائل فون بھی برآمد کر لیے گئے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں گینگ کا سرغنہ بھی شامل ہے جو مبینہ طور پر پنجاب پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل بتایا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈھوک رجو کے رہائشی محمد افضال نے پولیس کو درخواست دی کہ 7 مارچ کی علی الصبح تقریباً ساڑھے تین بجے وہ اپنے مویشی جن میں پانچ جھوٹیاں، تین وہڑے، ایک گائے اور دو جھوٹے شامل تھے، کنجاہ مویشی منڈی گجرات میں فروخت کے لیے ڈالہ نمبر 4572 پر لوڈ کر کے اپنے بھتیجے علی شاہ اور ڈرائیور کے ہمراہ گھر سے روانہ ہوئے۔
درخواست گزار کے مطابق جب وہ گاؤں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے تو سڑک پر پہلے سے موجود چار نقاب پوش افراد نے گاڑی روک لی۔ ملزمان میں سے ایک کے پاس پستول، ایک کے پاس ڈنڈا اور ایک کے پاس چھری تھی۔ ملزمان نے انہیں گاڑی سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا اور رسیوں سے باندھ دیا۔
جہلم میں پولیس اور حساس اداروں کا مشترکہ سرچ آپریشن، 12 افغان باشندے گرفتار
ڈاکوؤں نے محمد افضال سے ایک لاکھ پچیس ہزار روپے نقدی اور موبائل فون جبکہ علی شاہ سے چالیس سے پینتالیس ہزار روپے اور موبائل فون چھین کر مویشیوں سے لدی فورڈ گاڑی سمیت فرار ہو گئے۔ متاثرین کسی طرح رسیاں کھول کر گھر پہنچے اور پولیس کو اطلاع دی جس پر تھانہ چوٹالہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفقت احمد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق جدید تفتیش اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو موٹروے ایم ٹو خانقاں ڈوگراں کے قریب گرفتار کیا گیا۔ موٹروے پولیس نے مشکوک گاڑی کو روک کر تلاشی لی تو دوران تحقیقات ایک ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم اہلکاروں نے اسے فوری طور پر قابو کر لیا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ پنجاب پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل جہانگیر ہے۔ موٹروے پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے گاڑی اور مویشیوں سمیت تھانہ چوٹالہ پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل جہانگیر اور اس کے ساتھی سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کیس میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔
