ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم جارحیت کا جواب دیا جائے گا
امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا دعویٰ
ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل Ali Larijani نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک اب یہ حقیقت سمجھ چکے ہیں کہ United States ان کی سکیورٹی یقینی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق اگر خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے دشمنی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوں گے تو ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوگا۔
امریکا کی پالیسیوں پر تنقید
علی لاریجانی نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے غلط اندازوں کے باعث مشکلات میں گھر چکا ہے۔ ان کے بقول ایران پر حملے کر کے سابق امریکی صدر Donald Trump اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ایرانی قوم دشمنوں کے خلاف متحد ہے اور ملکی قیادت بھی اس معاملے پر ایک ہی موقف رکھتی ہے۔
500 امریکی فوجی ہلاک کر چکے ہیں، علی لاریجانی کا دعویٰ
خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات
ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ ایران کو خطے کے دیگر ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق کشیدگی کی اصل وجہ امریکا اور Israel کی پالیسیوں اور اقدامات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت میں اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ اگر جارحیت کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا، تاہم ایران جنگ کو طول دینا نہیں چاہتا۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی صورتحال
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران نے Strait of Hormuz کو بند نہیں کیا، تاہم جاری کشیدگی کے باعث وہاں کی صورتحال متاثر ضرور ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ایران کی خواہش جنگ نہیں، لیکن اگر کوئی ملک جارحیت کرے گا تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔
