پاکستان میں فضائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے کیونکہ حکومت نے کمرشل طیاروں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول (جی پی ون) کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ایئرلائن ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں 154 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 188.93 روپے سے بڑھ کر 342.37 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس طرح جیٹ فیول کی قیمت میں تقریباً 82 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے کے بعد ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جسے پورا کرنے کے لیے فضائی کمپنیوں کو ٹکٹ کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فی ٹکٹ کرایہ تقریباً 5 ہزار روپے تک بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ کیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگے کر دیے گئے ہیں جس کے بعد پٹرول کی قیمت 321 روپے 17 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 130 روپے 8 پیسے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 318 روپے 81 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
نجی ایئرلائن کی سنگین غفلت: لاہور سے کراچی جانے والا مسافر جدہ پہنچا دیا گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، کیونکہ مختلف مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتیں بڑھا سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑے گا۔
