امریکا اور اسرائیل کے اچانک حملوں کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر بھرپور جوابی کارروائی کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل کے شمالی علاقوں پر تقریباً 75 میزائل داغے، اور پاسدارانِ انقلاب نے میزائل اور ڈرون کے ذریعے پہلی حملہ آور لہر لانچ کر دی۔
اسرائیلی فوج نے فوری طور پر دفاعی نظام فعال کر دیا اور شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت جاری کی۔ شمالی اسرائیل میں سائرن بجنے کے بعد عوام کو خبردار کیا گیا کہ وہ حفاظتی اقدامات کریں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق چند میزائل ایران کے صدراتی محل اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی گرے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایران کی جوابی کارروائی انتہائی سخت ہوگی اور اس کے اختتام کا اختیار ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان
واضح رہے کہ اسرائیل نے تہران پر اچانک حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں تہران میں متعدد دھماکے اور دھویں کے گہرے بادل دیکھے گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کرے، تاہم مذاکرات میں ایران کے مؤقف سے امریکا مطمئن نہیں تھا، جس کے بعد فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔
