روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، زیلنسکی نے فضائی دفاعی نظام کو فوری ضرورت قرار دے دیا
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے جنگ کے دوران اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے، جس میں ایک ہی وقت میں درجنوں میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق زیلنسکی نے کہا کہ روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔
70 میزائل اور ڈرونز فائر کیے گئے: زیلنسکی
یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ حملے میں مجموعی طور پر 70 میزائل اور ڈرونز فائر کیے۔
زیلنسکی کے مطابق حملوں کا ایک اہم ہدف یوکرین کا توانائی کا شعبہ تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں جانی نقصان ہوا، جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یوکرینی صدر نے روسی حملوں کو موجودہ جنگ کے دوران ایک بڑے حملے کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے مزید مضبوط دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
بیلسٹک میزائل سب سے بڑا چیلنج ہیں
ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بیلسٹک میزائل یوکرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یوکرین کے لیے مؤثر فضائی دفاعی نظام سب سے اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق فضائی دفاع کو مضبوط بنانا روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
یوکرین طویل عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی نظام اور دیگر فوجی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 90 میزائل اور 600 ڈرونز فائر، اوریشنک ہائپرسونک میزائل بھی استعمال
روس نے بڑے حملوں کی تصدیق کردی
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے بھی یوکرین میں بڑے پیمانے پر حملے کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق روسی فوج نے دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے دیگر مقامات پر حملے کیے، تاہم روس کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں یوکرینی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کی فوجی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ روسی حملوں میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کا معاملہ بھی اس جنگ کے اہم پہلوؤں میں شامل ہے۔
حالیہ حملے میں ہلاکتوں اور نقصان سے متعلق یوکرینی حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق کم از کم 11 افراد جان سے گئے، جبکہ حملے کے مکمل نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔
