لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دس برسوں میں 45 ہزار مزید غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملک بدری کے عمل کو تیز اور منظم بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز کی گنجائش میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو زیادہ مؤثر انداز میں حراست میں رکھا جا سکے۔
برطانوی حکام کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت غیر ملکی مجرموں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ ایسے افراد کو جلد حراست میں لے کر ان کی بے دخلی کا عمل کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ، ایک اور ہلاکت کے بعد کشیدگی
حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے امیگریشن نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور سخت بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی، سرحدی سلامتی کو بہتر بنانا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اس پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔
برطانوی حکام نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں بھی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں صرف قانونی اور ضابطے کے مطابق امیگریشن کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور غیر قانونی قیام کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
