اسرائیل میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ تل ابیب میں مظاہرین نے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کرکے مخلوط حکومت قائم کریں۔ ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔
تل ابیب میں مظاہرین کا مخلوط حکومت کے حق میں مطالبہ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ عرب جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی حکومت بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
مظاہرین کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابات کے بعد اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحادوں کو درکار اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کی حمایت یا ان کے ساتھ تعاون حکومت سازی کے حوالے سے اہم سیاسی معاملہ بن گیا ہے۔ مظاہرین چاہتے ہیں کہ اپوزیشن رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر ایسا اتحاد تشکیل دیں جو پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرسکے۔
نیتن یاہو کے انتخابی دھاندلی کے الزامات
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کی ریکارڈ 19 نشستوں پر کامیابی کو انتخابی دھاندلی قرار دیا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
عرب رہنماؤں نے نیتن یاہو کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ اس معاملے نے انتخابات کے بعد سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا کردی ہے، جبکہ حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ تعاون پر بھی توجہ مرکوز ہے۔
’وہ ایک جنگجو وزیراعظم ہے‘، ٹرمپ کی اسرائیلیوں سے نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل
عرب جماعتوں کی 19 نشستوں پر کامیابی کو موجودہ سیاسی صورت حال میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کو پارلیمان میں کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہے۔
کسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی
ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد کے حصے میں 48 نشستیں آئی ہیں۔
تاہم، ان نتائج کی بنیاد پر کوئی بھی اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ ایسے میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا اہم ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان 4 نومبر کو کیا جائے گا۔ حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کی صورت حال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
فی الحال تل ابیب میں ہونے والے احتجاج اور عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے مطالبے نے اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
