اسلام آباد: پاور ڈویژن کی تازہ سرکلر ڈیٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران پاکستان کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے نے توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سرکلر ڈیٹ میں مجموعی اضافہ
رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 سے فروری 2026 تک کے عرصے میں بجلی کے شعبے کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 1 ہزار 837 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ جون 2025 میں یہ رقم 1 ہزار 614 ارب روپے تھی۔
اس طرح صرف 8 ماہ کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 224 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جو توانائی کے شعبے کی مالی صورتحال پر تشویشناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
مالی دباؤ میں اضافہ
دستاویزات کے مطابق گردشی قرضے میں یہ اضافہ مختلف مالیاتی اور انتظامی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جن میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور وصولیوں کے نظام میں عدم توازن شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بجلی کی پیداوار اور صارفین سے وصولیوں میں فرق بڑھتا ہے تو اس کا بوجھ مسلسل سرکلر ڈیٹ کی صورت میں جمع ہوتا رہتا ہے۔
جون 2025 سے موجودہ صورتحال
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 میں بجلی شعبے کا گردشی قرضہ 1 ہزار 614 ارب روپے تھا، جو اب بڑھ کر 1 ہزار 833 سے 1 ہزار 837 ارب روپے کے درمیان رپورٹ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے دورہ چین سے قبل چینی پاور پلانٹس کو 100 ارب کی ادائیگی کا فیصلہ
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ پالیسیوں اور اصلاحات کے باوجود توانائی کے شعبے میں مالی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکا۔
ماہرین کی رائے
توانائی ماہرین کے مطابق سرکلر ڈیٹ میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری نظام کی بہتری اور پیداواری لاگت میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
مزید یہ کہ پاور سیکٹر میں دیرپا اصلاحات کے بغیر گردشی قرضے پر قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
مجموعی صورتحال
پاور سیکٹر کا بڑھتا ہوا گردشی قرضہ ایک بار پھر توانائی کے شعبے میں ساختی مسائل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں یہ بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جو ملکی مالی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
