اسلام آباد: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی طرف منتقلی کا حکومتی منصوبہ مختلف انتظامی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں ایندھن کے بڑھتے اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
نجی شعبے کے خدشات
نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کی درآمد اور تنصیب کے حوالے سے موجود ریگولیٹری رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قواعد و ضوابط سرمایہ کاری کے عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث منصوبے کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان رکاوٹوں کو بروقت دور نہ کیا گیا تو پاکستان میں ای وی مارکیٹ کی ترقی سست روی کا شکار رہ سکتی ہے۔
ریگولیٹری مسئلے کی جڑ
یہ مسئلہ بنیادی طور پر کسٹمز جنرل آرڈر (CGO) کی انٹری نمبر 938 کے تحت ہونے والی متنازع درجہ بندی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ درجہ بندی ڈرافٹ CGO نمبر 3 کا حصہ ہے، جس میں 25 فروری 2025 کو نظرثانی بھی کی گئی تھی۔
اسی درجہ بندی کی وجہ سے چارجنگ اسٹیشنز اور متعلقہ آلات کی درآمد کے عمل میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس نے نجی سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
ای وی منصوبے کی اہمیت
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کو توانائی کے بحران اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے تناظر میں ایک اہم حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کا ہدف ہے بلکہ شہری علاقوں میں کاربن اخراج میں کمی بھی ممکن ہے۔
پاکستان نے صاف توانائی کو قومی ترجیح بنا لیا، 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف: صدر زرداری
حکومتی سطح پر مختلف مراعات اور پالیسی فریم ورک بھی متعارف کرائے گئے ہیں، تاہم عملی سطح پر انفراسٹرکچر کی کمی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین کی رائے
توانائی اور ٹرانسپورٹ ماہرین کے مطابق اگر ریگولیٹری رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے واضح پالیسی، آسان درآمدی طریقہ کار اور چارجنگ نیٹ ورک کی تیز توسیع ناگزیر ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر اس شعبے میں مطلوبہ پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
مجموعی صورتحال
فی الحال پاکستان میں ای وی منتقلی کا منصوبہ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکا۔ ماہرین کے مطابق اگر پالیسی اور ریگولیٹری مسائل حل کر لیے جائیں تو یہ شعبہ مستقبل میں ملک کی معیشت اور ماحول دونوں کے لیے مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
