اسلام آباد: رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو مجموعی طور پر 226 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں نقصانات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک کے عرصے میں بجلی کی ترسیل اور وصولیوں سے متعلق مختلف مسائل کے باعث ڈسکوز کو بھاری مالی خسارے کا سامنا رہا۔ اس دوران مجموعی نقصانات 226 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نقصانات میں 66 ارب روپے کی کمی آئی ہے، جسے بجلی کے شعبے میں کارکردگی میں بہتری کی ایک مثبت علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی خسارے میں سے 169 ارب روپے بجلی چوری، لائن لاسز اور انتظامی کمزوریوں کی مد میں ہوئے، جبکہ 57 ارب روپے صارفین سے واجبات کی مکمل وصولی نہ ہونے کے باعث ضائع ہوئے۔
بجلی صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، ملک بھر میں فی یونٹ قیمت میں نمایاں کمی
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نقصانات میں کمی حوصلہ افزا ہے، تاہم بجلی چوری اور وصولیوں کے مسائل اب بھی شعبے کی مالی استحکام کے لیے بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے مؤثر اصلاحات اور سخت نگرانی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔
