وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ ہفتے میں 6 روز تدریسی سرگرمیوں کا اطلاق صرف سرکاری اسکولوں پر ہوگا، جبکہ نجی تعلیمی ادارے اپنے قواعد و ضوابط اور پالیسی کے مطابق ہفتہ وار اوقات کار کا تعین کرنے کے مجاز ہوں گے۔
سرکاری اسکولوں میں ہفتے کے 6 دن تدریس جاری رہے گی
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکول یکم اگست 2026 سے ہفتے میں 6 روز کھلے رہیں گے اور ان میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے یہ وضاحت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کی، جس میں محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے نوٹیفکیشن کی تشریح بھی کی گئی۔
نوٹیفکیشن کے بعد ابہام پیدا ہوا تھا
چند روز قبل محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکول یکم اگست سے کھل جائیں گے اور تدریسی عمل ہفتے میں 6 روز جاری رہے گا۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہفتے میں چھ روز تدریس کا فیصلہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی لازمی طور پر لاگو ہوگا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔
نثار کھوڑو کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل، سندھ کی تقسیم سے متعلق بحث کو سازش قرار دے دیا
وزیر تعلیم کی وضاحت
وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اعلامیے کے مطابق ہفتے میں 6 روز تدریسی سرگرمیوں کا فیصلہ صرف سرکاری اسکولوں کے لیے ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ نجی تعلیمی اداروں پر سرکاری اسکولوں کے ہفتہ وار اوقات کار کا اطلاق لازمی نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے انتظامی ڈھانچے، تعلیمی کیلنڈر اور پالیسی کے مطابق تدریسی دنوں اور اوقات کا تعین کرنے کے مجاز ہوں گے۔
نجی اسکول اپنی پالیسی پر عمل کریں گے
وزیر تعلیم کے مطابق نجی اسکول اپنی انتظامی ضروریات اور تعلیمی نظام کے تحت ہفتہ وار شیڈول مرتب کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں سرکاری اسکولوں کے اوقات کار کی پابندی کرنا ضروری نہیں ہوگی۔
اس وضاحت کے بعد والدین، طلبہ اور نجی تعلیمی اداروں میں موجود ابہام کافی حد تک دور ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اب یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ دونوں شعبوں کے لیے الگ الگ پالیسی نافذ ہوگی۔
تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل پر زور
محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ہفتے میں 6 روز تدریسی سرگرمیوں کا مقصد طلبہ کی تعلیمی استعداد کو بہتر بنانا، نصاب کی بروقت تکمیل یقینی بنانا اور تعلیمی معیار میں بہتری لانا ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے اپنی متعلقہ پالیسیوں کے مطابق تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، جبکہ کسی بھی نئی ہدایت یا تبدیلی سے متعلق باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
