ذرائع نے صدر آصف علی زرداری کے دورۂ لیختن شٹائن کو بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے جوڑا ہے، تاہم پیپلز پارٹی نے منگنی یا شادی کی خبروں کو غلط اور بے بنیاد قرار دے دیا۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مبینہ منگنی اور شادی سے متعلق خبریں سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے کے سلسلے میں یورپی ملک لیختن شٹائن پہنچے ہیں اور ان کے ہمراہ خاندان کے دیگر افراد بھی موجود ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ کراچی کے میئر اور بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ان کی منگنی یا شادی سے متعلق خبروں کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں رپورٹس کو ’’غلط اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔
لیختن شٹائن سے متعلق کیا دعویٰ کیا گیا؟
ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے لیختن شٹائن کا سفر کیا ہے اور اس دورے کا مقصد مبینہ طور پر بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق معاملات پر بات چیت اور تاریخ طے کرنا ہے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مبینہ دلہن کا تعلق لیختن شٹائن کے دارالحکومت وادوز سے ہے اور شادی کی تقریب رواں سال کے اختتام تک متوقع ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری یا ان کے خاندان کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
پیپلز پارٹی نے شادی کی خبر مسترد کردی
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ان اطلاعات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق خبر درست نہیں اور اس کی کوئی بنیاد نہیں۔
پارٹی کی اس وضاحت کے بعد فی الحال بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی کے حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات غیرمصدقہ دعووں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چنانچہ شادی کی تاریخ، مقام یا مبینہ رشتے سے متعلق تفصیلات کو حتمی خبر کے طور پر بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔
لیختن شٹائن کہاں واقع ہے؟
لیختن شٹائن مغربی یورپ کی ایک چھوٹی اور خشکی میں گھری ہوئی خودمختار ریاست ہے، جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت وادوز ہے۔
ملک کا جغرافیائی رقبہ نسبتاً کم ہے اور یہ اپنے پہاڑی مناظر اور الپائن ماحول کے باعث بھی جانا جاتا ہے۔ حالیہ خبروں میں بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کے حوالے سے اس ملک کا نام سامنے آنے کے بعد لیختن شٹائن اور اس کے دارالحکومت وادوز کا ذکر بھی پاکستانی سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس میں نمایاں ہوگیا ہے۔
فی الحال معاملے کی بنیادی حقیقت یہی ہے کہ شادی یا منگنی کی خبر کی پیپلز پارٹی کی جانب سے تردید کی گئی ہے، جبکہ دورۂ لیختن شٹائن اور شادی سے متعلق دعوے ذرائع سے منسوب ہیں۔ لہٰذا کسی باضابطہ اعلان تک ان اطلاعات کو غیرمصدقہ سمجھا جانا چاہیے۔
