ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو وزیر بنائے جانے کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جب طیارے میں تھا تو مصطفیٰ کمال کو حلف برداری کے لیے فون آیا۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا ملناغیرمعمولی قسم کا فیصلہ تھا، دونوں کےملاپ کے وقت تلخیاں بہت تھیں، یہ فطری ہے جو وقت کے ساتھ کم ہو جائےگا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پارٹی میں کچھ لوگوں کاگورنر سندھ کوپسند کرنا یا نہ کرنا فطری ہے، ہر پارٹی میں مختلف فیصلوں کو ہرکارکن ایک الگ نظر سےدیکھتا ہے لیکن میری موجودگی میں کسی کوپارٹی چھوڑکر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ایم کیو ایم کے کنوینرکا کہنا ہے کہ بعض اوقات اوپربیٹھےلوگوں کوزیادہ اندازہ ہوتا ہے اور وہ مشکل فیصلےکرتےہیں، بعض اوقات پارٹی کے بڑوں کے فیصلوں کا اثر نیچےتک نہیں پہنچ رہا ہوتا، 23اگست 2016 کو جو فیصلہ کیا اس کے بعد جو مدد ملنی چاہیے تھی بہت لوگوں کی وجہ سےنہیں ملی، جب الگ ہونےکا فیصلہ کیا تو ہمارے دفاتربند کردیےگئے اور جینا دوبھرکر دیاگیا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ نہیں پتا 2016 کےفیصلےبعد کس کوکامیاب کرنا تھا جو ہمارا راستہ روک کر رکھا، اب ہمیں مخالفت کی وہ شدت ریاست سے نظر نہیں آتی، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی تحلیل نہیں ہوئی بلکہ لیک ویڈیوکی تحقیقات کے لیے معطل ہے، آئینی اور قانونی تقاضے پورےکیے بغیر اس طرح رابطہ کمیٹی تحلیل ہوبھی نہیں سکتی، رابطہ کمیٹی کوبحال کرنےکےمعاملےکوبھی جلد حل کرلیں گے۔
وفاقی وزارتوں کے لیےشروع میں میرانام ہی نہیں تھا، ہم نےدوسرے نام دیےتھے، فوری طور پرکابینہ بننی تھی تو میرا نام وزارت کےلیےلیاگیا، یہ میرے ساتھ تیسری بار ایسا ہوا تھااور ہربارمیں نے استعفیٰ بھی دیا، میرے پاس 2 وزارتیں تھیں ابھی1 وزارت چھوڑی ہے، آنے والے وقتوں میں تنظیم پر مزید توجہ دینےکےلیےاورمحنت کرنی ہوگی۔
