کراچی، ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ تینوں صوبوں میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں مگر سندھ میں جمہوریت کے نام پر 15 سال سے ایک جماعت کی حکومت ہے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں فاروق ستار، مصطفیٰ کمال کیساتھ نیوز کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ، بلاول بھٹو نے تاجروں کو دعوت دی تھی، ہماری خوش فہمی تھی یہ تاجروں سے معذرت بھی کریں گے، تاجروں سے ملاقات میں ان کا لہجہ دھمکی سے کم نہیں تھا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کو بڑی تکلیف ہے کہ تاجروں نے گلا کہیں اور جا کر کیا، تاجروں نے جو گلا کیا اس کا جواب دیں گے؟ صوبائی دارالحکومت کراچی میں بھتہ طلب کرنے کی روزانہ وارداتیں ہو رہی ہیں، اگر بھتہ نہ دیں تو انہیں مار دیا جاتا ہے۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ وار سے تعلقات بارے پوری دنیا کو پتہ ہے، اب بھتہ سرکاری سطح پر وصول کیا جا رہا ہے، خالد مقبول صدیقی نے سندھ حکومت کا نام لیے بغیر بھتہ لینے کا الزام عائد کر دیا، انہوں نے کہا کہ شہر کا سرکاری سطح پر پانی بیچا جا رہا ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو تاجروں کے سامنے شرمندہ ہونا چاہیے تھا، آپ نے لیاری گینگ وار کے ذریعے شہر کو یرغمال بنایا۔
ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 50 سال پہلے کوٹہ سسٹم بنایا تھا، پیپلز پارٹی کو کسانوں کا کوئی خیال نہیں، آپ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہر کو تباہ کر رہے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر ہم نے عدالت کو شواہد فراہم کیے، مصنوعی اکثریت سندھ پر حکومت کر رہی ہے، بلاول نے تاجروں سے ملاقات میں سٹریٹ کرائمز، بچوں کے اغوا پر معافی کیوں نہیں مانگی۔