زحل کا چاند انسلیدس، جہاں زمین سے باہر زندگی کے امکانات موجود ہیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سائنسدانوں نے نظام شمسی میں ایک ایسے مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں زمین کے علاوہ کسی قسم کی زندگی موجود ہونے کے امکانات پر مسلسل تحقیق کی جا رہی ہے۔ یہ مقام سیارہ زحل کا چھٹا بڑا چاند انسلیدس (Enceladus) ہے، جس کی برفانی سطح کے نیچے ایک وسیع نمکین سمندر موجود ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔

latest urdu news

انسلیدس گزشتہ کئی برس سے خلائی سائنسدانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ اس چاند سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات خلا میں خارج ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ نئی تحقیق نے اس امکان کو مزید تقویت دی ہے کہ وہاں موجود سخت ماحول میں زمین پر پائے جانے والے بعض جرثومے زندہ رہ سکتے ہیں۔

جاپان کے سمندر سے ملنے والے جرثوموں پر تجربہ

جرمنی کی لڈوگ میکسیملین یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں جاپان کے سمندر کی گہرائی میں پائے جانے والے ایسے جرثوموں کا تجربہ کیا جو انتہائی مشکل ماحول میں زندگی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محققین نے لیبارٹری میں انسلیدس کے سمندر سے مشابہ حالات پیدا کیے اور دیکھا کہ یہ جرثومے وہاں کس طرح زندہ رہتے ہیں۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہ جرثومے ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو میتھین میں تبدیل کرتے ہوئے ایسے ماحول میں بھی نشوونما پا سکتے ہیں۔

زمین پر اس نوعیت کے جرثومے سمندر کی تہہ میں موجود ہائیڈرو تھرمل سوراخوں کے آس پاس پائے جاتے ہیں، جہاں گرم پانی اور مختلف کیمیائی مادے ان کی بقا میں کردار ادا کرتے ہیں۔

برف کے نیچے چھپا ہوا سمندر

انسلیدس کی سطح انتہائی سرد ہے اور وہاں درجہ حرارت تقریباً منفی 201 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کی موٹی برفانی تہہ کے نیچے ایک بڑا سیال سمندر موجود ہے۔

چاند کے جنوبی قطب کے قریب برفانی سطح میں موجود دراڑوں سے پانی کی پھوار خلا میں خارج ہوتی ہے۔ اس پھوار کا کچھ حصہ واپس سطح پر گرتا ہے، جبکہ پانی اور برف کے بعض ذرات خلا میں بہت دور تک پہنچ جاتے ہیں۔

ناسا کے کیسینی خلائی مشن نے ان اخراجات کے مشاہدے کے ذریعے انسلیدس کے اندر موجود سمندر اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ بعد ازاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے بھی اس چاند سے پانی کے بخارات کے بڑے اخراج کا مشاہدہ کیا۔

نامیاتی مرکبات نے بھی امید بڑھا دی

انسلیدس میں زندگی کے امکانات کی ایک اور اہم وجہ وہاں نامیاتی مرکبات کی موجودگی ہے۔ 2025 میں سائنسدانوں نے کیسینی مشن سے حاصل کیے گئے نمونوں میں مختلف نامیاتی مرکبات کی موجودگی کی نشاندہی کی، جبکہ گزشتہ سال ایک اور تحقیق میں چاند سے خارج ہونے والے برفانی ذرات میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز دریافت کیے گئے تھے۔

محققین کے مطابق انسلیدس میں سیال پانی، ممکنہ ہائیڈرو تھرمل توانائی اور زندگی کے لیے ضروری بعض کیمیائی اجزا کی موجودگی اسے قابلِ رہائش ماحول کے حوالے سے ایک اہم مقام بناتی ہے۔

تاہم سائنسدان واضح کرتے ہیں کہ ان شواہد سے انسلیدس پر زندگی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔ موجودہ تحقیق صرف یہ امکان مضبوط کرتی ہے کہ وہاں ایسے حالات موجود ہوسکتے ہیں جن میں کسی قسم کی زندگی برقرار رہ سکے۔

مستقبل میں انسلیدس کی مزید تحقیق

انسلیدس پر تحقیق کا اگلا اہم مرحلہ مستقبل کے خلائی مشنز ہوسکتے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی کی جانب سے بھی اس چاند کے لیے مستقبل کے مشن کے امکانات پر کام کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جنوبی قطب کے قریب موجود برف اور وہاں سے خارج ہونے والے مادے کا مزید تفصیلی جائزہ لینا ہے۔

مئی 2023 میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے انسلیدس سے پانی کے بخارات کے ایک بڑے اخراج کا مشاہدہ کیا تھا۔ اس وقت سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پانی کا یہ اخراج خلا میں تقریباً 6 ہزار میل تک پھیل گیا تھا اور چاند سے ہر سیکنڈ تقریباً 300 لیٹر پانی خارج ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

انسلیدس نظام شمسی کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں زمین کے علاوہ سیال پانی کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اسے خلائی زندگی کی تلاش کے لیے ایک اہم ہدف سمجھتے ہیں۔ نئی تحقیق نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ اگر وہاں زندگی موجود نہیں تو زندگی کے لیے موزوں دکھائی دینے والے ایسے ماحول میں اس کی عدم موجودگی کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

نئی تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter