نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے عرب لسٹ نے اپوزیشن رہنما کی حمایت کا عندیہ دے دیا، تاہم اس کے بدلے عرب آبادی کے تحفظ اور مسائل کے حل سے متعلق مطالبات پیش کر دیے۔
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران عرب لسٹ نے اپوزیشن رہنما گاڈی آئزنکوٹ کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے، جس سے حکومت سازی کے عمل میں ان کی پوزیشن مزید اہم ہو گئی ہے۔
عرب لسٹ میں شامل تبدیلی تحریک کے سربراہ احمد الطیبی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کے مقصد سے آئزنکوٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ حمایت کچھ شرائط سے مشروط ہوگی۔
عرب لسٹ نے حمایت کے بدلے کیا مطالبات پیش کیے؟
احمد الطیبی کے مطابق عرب لسٹ نے گاڈی آئزنکوٹ کے سامنے متعدد مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں عرب معاشرے کے لیے سکیورٹی نیٹ ورک کی فراہمی اور عرب آبادی کو درپیش مسائل کا جلد از جلد ازالہ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئزنکوٹ کو عرب معاشرے کے مسائل حل کرنے سے متعلق شرائط پیش کی گئی ہیں۔ اس طرح عرب لسٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کی حمایت محض سیاسی تبدیلی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ نئی حکومت سے عرب آبادی کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی مطلوب ہوں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق عرب لسٹ میں شامل دیگر 2 جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ان جماعتوں کی حمایت یا مخالفت سے متعلق صورتحال بھی حکومت سازی کے آئندہ مرحلے میں اہم ہو سکتی ہے۔
گاڈی آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل
دوسری جانب اسرائیل میں اپوزیشن رہنما اور یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو وزیر اعظم بننے کے لیے پارلیمنٹ کے اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا اسرائیل کی سالانہ 4 ارب ڈالر امداد بند کرنے کا اعلان
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ حکومت سازی کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ہرزوگ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 67 ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل سیاسی دھڑوں کے نمائندوں نے آئزنکوٹ کی حمایت کی، جبکہ 46 ارکان پر مشتمل دھڑوں نے موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی سفارش کی۔
صدر ہرزوگ کا مزید مشاورت کا فیصلہ
اسرائیلی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کے روز حکومت بنانے کا باضابطہ مینڈیٹ سونپنے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مزید بات چیت کریں گے تاکہ صورتحال کو واضح کیا جا سکے۔
اسرائیل میں حکومت سازی کے اس مرحلے پر سیاسی جماعتوں کی حمایت، ان کے مطالبات اور آئندہ مذاکرات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر آئزنکوٹ مختلف جماعتوں کی حمایت کو ایک قابلِ عمل حکومتی معاہدے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملک میں اقتدار کی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر کی مشاورت اور جماعتوں کے حتمی مؤقف کے بعد ہی نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں واضح صورتحال سامنے آئے گی۔
