خیبرپختونخوا حکومت کا پی ٹی آئی دور کی 1224 ترقیاتی اسکیموں کی چھان بین کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق دور حکومت میں 1 ہزار 348 ارب روپے کی لاگت سے منظور کی گئی نئی ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جائے گا، غیر منظور شدہ منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا۔

latest urdu news

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق دور حکومت میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کی گئی اسکیموں کی چھان بین کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کی 1224 نئی ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 1 ہزار 348 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے دور میں ان اسکیموں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل کیا گیا تھا، تاہم اب موجودہ حکومت نے ان کی منظوری، افادیت اور مالی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا ہے۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے 107 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم تمام اسکیموں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے بجائے ان کی موجودہ حیثیت اور متعلقہ فورمز سے حاصل کردہ منظوریوں کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے۔

منظوری نہ لینے والی ترقیاتی اسکیمیں ختم کرنے کا فیصلہ

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ترقیاتی اسکیموں نے تاحال متعلقہ سرکاری فورمز سے ضروری منظوری حاصل نہیں کی، انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسکیموں کی چھان بین کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے منصوبے باقاعدہ منظوری کے مراحل مکمل کرچکے ہیں اور کن منصوبوں پر مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔

زیرِ جائزہ ترقیاتی اسکیموں میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم کے حلقوں میں شامل منصوبے بھی موجود ہیں۔ اس طرح حکومتی شخصیات کے اپنے حلقوں کی اسکیمیں بھی جانچ پڑتال کے عمل سے گزریں گی۔

سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کیا جائے گا، مشیر اطلاعات

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی تمام ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس عمل میں کسی قسم کا سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چھان بین کے بعد بعض منصوبوں پر نظرثانی کی جائے گی، جبکہ کچھ اسکیموں کو موجودہ صورت میں برقرار رکھا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کی اختیارات میں شراکت نہیں: طارق فضل چوہدری

ثمر ہارون بلور نے واضح کیا کہ ہر ترقیاتی منصوبے کے بارے میں فیصلہ الگ الگ بنیادوں پر کیا جائے گا اور کسی ایک پالیسی کے تحت تمام اسکیموں کو ختم یا برقرار نہیں رکھا جائے گا۔

ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا

مشیر اطلاعات کے مطابق تمام فیصلے کیس ٹو کیس اور میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر منصوبے کی ضرورت، منظوری کی صورت حال اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس فیصلے کے بعد سابق دور میں منظور ہونے والی بڑی تعداد میں ترقیاتی اسکیموں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ چھان بین کا عمل کب تک مکمل ہوگا اور کتنے منصوبے ختم، تبدیل یا برقرار رکھے جائیں گے۔

مجموعی طور پر حکومت کے اس اقدام کا مقصد ترقیاتی بجٹ میں شامل اسکیموں کی جانچ پڑتال کرکے ان کے بارے میں میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں