گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ ان کے بقول پارٹی اس وقت اندرونی اختلافات اور دھڑوں میں تقسیم ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنے کی بھی بات کی ہے۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے انتظامی معاملات، سرکاری محکموں کی کارکردگی اور پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اس وقت چار مختلف فرنچائزز میں تقسیم ہوچکی ہے اور پارٹی کے اندر اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ایک ہی جماعت کے رہنما اپنے چیئرمین، جنرل سیکرٹری اور اسپیکر کو تسلیم نہیں کرتے۔
گورنر کے پی نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت اپنے ہی عہدیداروں کو نہیں مان رہی، وہ دوسروں کو کیا تسلیم کرے گی؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما آپس میں اختلافات کا شکار ہیں، اس لیے انہیں خود واضح کرنا چاہیے کہ ان کی اصل قیادت اور حقیقی فرنچائز کون سی ہے۔
سرکاری محکموں کی کارکردگی پر تنقید
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی سرکاری محکموں کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں کسی محکمے کی بریفنگ دی جاتی ہے تو وہ حیران رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے شہر میں جاری صفائی کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا متعلقہ محکمے پہلے یہ کام نہیں کرسکتے تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سرکاری ملازمین یا تو گھروں میں کام کررہے تھے یا گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے تھے۔
خیبرپختونخوا کے تیل، گیس اور معدنیات سے فائدہ اٹھائیں گے، فیصل کریم کنڈی کا اعلان
فیصل کریم کنڈی نے خبردار کیا کہ اب جو ملازم ڈیوٹی کیے بغیر گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کرے گا، اسے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لیے احتساب کا نظام ہوگا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا و جزا کے اصول پر عمل کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق مؤقف
گورنر خیبرپختونخوا نے سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
ان کے اس بیان میں واضح کیا گیا کہ متعلقہ کارروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔
