خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کی اختیارات میں شراکت نہیں: طارق فضل چوہدری

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی جماعت کو اختیارات میں شریک نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات نیک نیتی سے کیے، تاہم ان کے بقول مذاکرات کے دوران طے پانے والے مسودوں میں تبدیلیاں کی گئیں۔

latest urdu news

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کے مؤقف پر تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے انتشار اور بدامنی پھیلانے سے متعلق باتیں کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں شریک اپوزیشن کا وفد بااختیار نہیں تھا۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت مذاکراتی عمل میں سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ شریک ہوئی، لیکن ان کے بقول خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات میں طے پانے والے مسودوں میں تبدیلیاں کیں۔

مذاکرات اور اپوزیشن کے کردار پر تنقید

طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے سامنے آنے والے اقدامات نے اس عمل کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے کی باتیں بھی کی گئیں۔ وفاقی وزیر نے اس بیان کے ذریعے اپوزیشن کے بعض سیاسی مؤقف اور طرزِ گفتگو پر تنقید کی، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس حوالے سے مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

خیبرپختونخوا میں مشاورتی کونسل تشکیل دینے کا دعویٰ

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں کسی سیاسی جماعت کو اختیارات میں شریک نہیں کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں اہم فیصلہ، ڈپٹی کمشنرز کو گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض

طارق فضل چوہدری کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا کی سیاسی صورت حال اور گورنر راج سے متعلق معاملات پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ تاہم ان کی گفتگو میں مشاورتی کونسل کے ارکان، اختیارات اور عملی ذمہ داریوں کی مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 12 اضلاع میں اقدامات

طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے ان اقدامات کی نوعیت، متعلقہ اضلاع کے نام یا نتائج کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

سیاسی اختلافات اور صوبے کی صورت حال

وفاقی وزیر کے بیان میں مذاکراتی عمل، خیبرپختونخوا میں انتظامی ڈھانچے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اہمیت دی گئی۔ انہوں نے حکومت کے مذاکراتی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر تنقید کی اور مشاورتی کونسل کی تشکیل کا ذکر کیا۔

تاہم مذاکرات میں مسودوں کی تبدیلی، اپوزیشن وفد کے اختیارات اور مشاورتی کونسل کے کردار سے متعلق ان کے دعووں پر اپوزیشن کا مؤقف فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے ان معاملات پر دونوں جانب کے مؤقف اور مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورت حال کا مکمل جائزہ لیا جاسکے گا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں