چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 70 ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے شرکت کی، جبکہ اجلاس میں گورنر راج سے پیدا ہونے والی صورت حال اور آئندہ حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قیادت اور دونوں اپوزیشن لیڈرز پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے شرکا نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار کو بھی سراہا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف سفارشات تیار
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی۔ اجلاس میں گورنر راج کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور انتظامی خلا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان کے مطابق اجلاس میں مختلف امور پر غور کے بعد سفارشات مرتب کرکے دونوں اپوزیشن لیڈرز کو بھجوا دی گئی ہیں۔ ان سفارشات کو حتمی شکل منظوری کے بعد دی جائے گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج کو واپس لینے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی مخصوص عملی اقدام یا حتمی لائحہ عمل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
28ویں آئینی ترمیم پر کوئی بحث نہیں ہوئی
بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ 28ویں آئینی ترمیم مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی اور نہ ہی اس پر کوئی بحث ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس ترمیم کے حوالے سے نہ کوئی فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تجویز سامنے آئی۔ ان کے مطابق متنازع قانون سازی سے گریز کرنے کے بارے میں پارٹی کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے۔
دہشتگردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج لگایا گیا، ہم ریاست کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی کرنے سے ملک میں جاری بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم آئینی اور سیاسی معاملات پر فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جانے چاہییں تاکہ اختلافات میں مزید اضافہ نہ ہو۔
نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی رضامندی ضروری ہے
بیرسٹر گوہر نے صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر صوبوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے اور نئے صوبے بنانے کا فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق صوبوں سے متعلق کسی بھی اہم فیصلے کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے معاملات میں جلد بازی کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
سیاسی بحران کے حل کے لیے مشاورت پر زور
بیرسٹر گوہر کی گفتگو میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے، آئینی قانون سازی اور صوبوں کی تشکیل سے متعلق معاملات نمایاں رہے۔ ان کے بیان کے مطابق پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان امور پر سفارشات تیار کرکے اپوزیشن قیادت کو بھجوا دی ہیں، جنہیں منظوری کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔
پارٹی کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی واپس لینے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی قیادت صوبے کی صورت حال پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ تاہم آئندہ اقدامات کی نوعیت اور سفارشات پر ہونے والے فیصلوں کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
