ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بڑے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی افواج مبینہ طور پر ممکنہ فوجی کارروائیوں کی تیاریاں بھی تیز کر رہی ہیں۔
تاہم، رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور دونوں حکومتوں کی جانب سے کسی باضابطہ اعلان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ممکنہ حملوں کے اہداف کیا ہوسکتے ہیں؟
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کے لیے دونوں ممالک کی افواج مشقیں بھی تیز کرچکی ہیں۔
رپورٹ میں جن ممکنہ اہداف کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں کے ذخائر اور ڈرونز سے متعلق تنصیبات شامل ہیں۔ اگر ان اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی گئی تو اس کے اثرات ایران کی توانائی کی پیداوار، دفاعی صلاحیت اور خطے کی مجموعی سکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔
تاہم، یہ اہداف رپورٹ میں بیان کیے گئے ممکنہ منصوبے کا حصہ ہیں، کسی حملے کے آغاز یا حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں۔
مختصر مگر شدید کارروائی سے ایران پر دباؤ ڈالنے کا دعویٰ
رپورٹ میں امریکی عہدیدار سے منسوب بیان کے مطابق مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ عہدیدار کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور اسے سفارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے پر آمادہ کرنا ہوسکتا ہے۔
اس دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ فوجی حکمت عملی کے بارے میں رپورٹ میں صرف عسکری اہداف ہی نہیں بلکہ ایران کے معاشی اور سفارتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے پہلو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مڈٹرم انتخابات سے پہلے ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی، نئی کم ترین سطح پر آگئی
تاہم، ایران کے ممکنہ ردعمل، حملوں کے دورانیے اور کسی بھی کارروائی کے علاقائی نتائج کے بارے میں رپورٹ میں کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
پیٹ ہیگستھ اور نیتن یاہو کے درمیان مبینہ گفتگو
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ممکنہ حملوں کے معاملے پر بات چیت کی۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے عراق کی فضائی حدود میں ممکنہ حملوں سے متعلق مشقیں کر رہے ہیں۔ تاہم، ان سرگرمیوں کی نوعیت اور ان کا ایران کے خلاف کسی حتمی فوجی منصوبے سے تعلق ہونے کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
خطے کی صورتحال پر ممکنہ اثرات
ایران کے خلاف کسی نئی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ توانائی کی تنصیبات یا جوہری مراکز کو نشانہ بنانے کی صورت میں سلامتی، توانائی کی رسد اور سفارتی تعلقات سے متعلق نئے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
فی الحال امریکی اخبار کی رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوؤں کو ممکنہ منصوبہ بندی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ حملے کے حتمی فیصلے یا آغاز کی تصدیق کے طور پر۔ کسی بھی پیش رفت کی نوعیت واضح ہونے کے لیے متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ بیانات اور مزید قابلِ اعتماد اطلاعات اہم ہوں گی۔
