علی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ سے الزامات کے شواہد سامنے لانے کا مطالبہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ان سے الزامات کے شواہد سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے بیان کو افسوس ناک، غیر ذمہ دارانہ اور پارٹی کے اندر اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے صوبے میں گورنر راج کی راہ ہموار کی ہے تو اس حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں۔

latest urdu news

سلمان اکرم راجہ کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا ردعمل

علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر جمہوری فیصلہ سازوں اور مبینہ گروپ کی سازش کا ذکر کرنے والوں کو پہلے واضح کرنا چاہیے کہ ان کے الزامات کن افراد کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بعض اراکین اسمبلی بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر یا آئندہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو ان اراکین کے نام بھی سامنے لائے جائیں۔

سابق وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ عمومی الزامات لگانے کے بجائے متعلقہ افراد کی نشاندہی کی جائے اور دعوؤں کی حمایت میں شواہد پیش کیے جائیں، تاکہ معاملے کی حقیقت واضح ہوسکے۔

گورنر راج سے متعلق الزامات کے شواہد طلب

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر کسی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے تو اس بارے میں بھی شواہد سامنے لائے جائیں۔

انہوں نے علی اصغر خان کو قائم مقام صدر مقرر کیے جانے کے معاملے پر بھی سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اگر ایسی تقرری عمل میں لائی گئی ہے تو اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن پیش کیا جائے۔

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور عہدوں سے متعلق فیصلوں پر واضح مؤقف اور دستاویزی ثبوت سامنے لانے کے خواہاں ہیں۔

بیرسٹر گوہر: علی امین گنڈاپور کے خلاف کارروائی کی باتیں من گھڑت ہیں

تاہم، فراہم کردہ بیان میں ان الزامات کے حق یا مخالفت میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ سلمان اکرم راجہ کا مؤقف بھی اس خبر میں شامل نہیں ہے۔

منتخب نمائندوں کو غدار یا سازشی قرار دینے پر سوال

سابق وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے کردار پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر منتخب نمائندے باہمی مشاورت کے ذریعے موجودہ سیاسی بحران کا آئینی اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غدار، سازشی یا غیر جمہوری قرار دینے کا اختیار چند افراد کو کس نے دیا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اختلافات اور اہم فیصلوں پر مشاورت جمہوری عمل کا حصہ ہیں، اس لیے منتخب نمائندوں کے کردار پر سوال اٹھانے سے پہلے متعلقہ معاملات کی وضاحت ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر اختلافات اور مشاورت کا معاملہ

علی امین گنڈاپور کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں پارٹی عہدوں، آئندہ قیادت اور سیاسی حکمت عملی سے متعلق اختلافات پر بحث جاری ہے۔ ان کے مطالبات کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مبینہ سازشوں، گورنر راج کی راہ ہموار کرنے اور پارٹی قیادت کے فیصلوں سے متعلق دعوؤں کو شواہد کے ساتھ واضح کیا جائے۔

اس معاملے پر پارٹی قیادت اور متعلقہ رہنماؤں کے مزید ردعمل سے صورت حال کی بہتر وضاحت ہوسکے گی۔ فی الحال علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیان میں لگائے گئے الزامات کی تفصیل اور ان کے شواہد سامنے لائیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں