وسیم عباس کا خون اور ہماری اجتماعی بے حسی، معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مظفر گڑھ کے گاؤں موضع دولت پور سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ وسیم عباس کی ہلاکت نے بچوں کے تحفظ، چائلڈ لیبر اور یتیم خانوں کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق وسیم والد کی وفات کے بعد مشکلات کا شکار رہا اور بہتر مستقبل کی امید میں ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا۔ الزام ہے کہ کام چھوڑ کر واپس جانے کی خواہش پر ہونے والے تنازع کے دوران ایک نجی ٹھیکیدار نے اسے گاڑی سے کچل دیا۔ پولیس نے واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

latest urdu news

والد کی وفات کے بعد مشکلات بھری زندگی

وسیم عباس کا تعلق مظفر گڑھ کے گاؤں موضع دولت پور سے تھا۔ اس کے والد کا انتقال تقریباً 9 سال قبل ہوا، جس کے بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی۔ بعد ازاں کچھ عرصے تک وسیم کی پرورش اس کے نانا اور چچا جعفر حسین نے کی۔

اہلخانہ کے مطابق، نانا نے وسیم اور اس کے بھائی کو اس امید پر ملتان کے ایک یتیم خانے میں داخل کرایا کہ وہ تعلیم حاصل کرکے بہتر مستقبل بنا سکیں گے۔ تاہم، وسیم کی زندگی میں آنے والے حالات نے اس امید کو ایک المناک انجام سے دوچار کر دیا۔

ہنر سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا

اہلخانہ اور وسیم کے کزن کے مطابق، واقعے سے تقریباً 6 سے 7 روز قبل یتیم خانے کی انتظامیہ نے اسے الیکٹریکل وائرنگ کا کام سیکھنے کے لیے ملتان کے نجی ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیدار کے ساتھ تقریباً 40 سے 45 لڑکے کام کر رہے تھے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وسیم اس کام پر جانے کے لیے رضامند نہیں تھا اور مسلسل گھر واپس جانے اور کام چھوڑنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ تاہم، اس کی ان خواہشات اور شکایات پر کیا اقدامات کیے گئے، اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔

کام چھوڑنے کے تنازع پر افسوس ناک واقعہ

واقعے کے روز ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں وسیم اور ٹھیکیدار کے درمیان کام چھوڑ کر واپس جانے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، وسیم نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو ٹھیکیدار نے پہلے پیدل اور پھر گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کیا۔

اہلخانہ اور عینی شاہدین سے منسوب بیان کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچے کو گاڑی کے سامنے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ الزام ہے کہ اس دوران گاڑی نے اسے کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ داری کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔

پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ تفتیش کس نتیجے پر پہنچتی ہے اور واقعے میں سامنے آنے والے تمام پہلوؤں کا قانونی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے یا نہیں۔

یتیم خانوں کی نگرانی اور بچوں کے تحفظ کا سوال

وسیم عباس کی ہلاکت نے یتیم خانوں میں مقیم بچوں کو تعلیم، تربیت اور ہنر سکھانے کے نام پر کام کی جگہوں پر بھیجنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بچوں کو کسی نجی ٹھیکیدار کے پاس بھیجنے سے پہلے ان کی عمر، رضامندی، حفاظت، نگرانی اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

یہ بھی جانچنے کی ضرورت ہے کہ یتیم خانے کی انتظامیہ نے وسیم کو کام پر بھیجتے وقت کن حفاظتی انتظامات کو مدنظر رکھا تھا اور آیا اس کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر نگرانی موجود تھی۔ اگر کسی سطح پر غفلت یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کا تعین بھی ضروری ہے۔

انصاف کے ساتھ بچوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری

یہ سانحہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان نہیں بلکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اداروں کی ذمہ داریوں کا بھی امتحان ہے۔ چائلڈ لیبر کی روک تھام، کام کی جگہوں پر بچوں کی حفاظت اور یتیم خانوں کی مؤثر نگرانی کے لیے قوانین پر عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وسیم عباس کے کیس میں انصاف کا تقاضا ہے کہ شفاف تحقیقات کی جائیں، شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین ہو اور قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ساتھ ہی ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے دوسرے بچوں کو غیر محفوظ حالات میں کام کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

ایک بچے کی جان واپس نہیں لائی جا سکتی، لیکن اس واقعے سے سبق لے کر بچوں کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاکہ کسی دوسرے بچے کو ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں