تارکین وطن کی کشتی کا المناک حادثہ، 15 بچوں سمیت 109 افراد ہلاک

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

افریقی ملک جبوتی سے یمن جانے والے تارکین وطن کی کشتی سمندر میں الٹنے کے نتیجے میں 15 بچوں سمیت کم از کم 109 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 116 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ کشتی میں تقریباً 350 افراد سوار تھے، جن میں سے 80 سے زیادہ کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

latest urdu news

350 افراد سے بھری کشتی سمندر میں الٹ گئی

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی ڈوبنے کا حادثہ 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا۔ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے اور حادثے کے بعد بڑی تعداد میں مسافر لاپتا ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران 80 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ 109 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ لاپتا افراد کی تلاش اور حادثے سے متعلق معلومات جمع کرنے کا عمل جاری ہے۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے تمام افراد ایتھوپیا کے شہری بتائے گئے ہیں۔ تاہم کشتی میں سوار تمام افراد کی شناخت اور ان کے آبائی علاقوں سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 15 بچے بھی شامل

رپورٹ کے مطابق اب تک برآمد کی گئی لاشوں میں 52 مرد، 42 خواتین، 9 لڑکیاں اور 6 لڑکے شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد 15 ہے۔

اس حادثے نے افریقہ سے خلیجی ممالک کی جانب بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں جانے والے تارکین وطن کو درپیش خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ سمندر کے راستے ایسے سفر اکثر غیر محفوظ کشتیوں اور دشوار حالات میں کیے جاتے ہیں، جس کے باعث مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔

بحیرہ ایجیئن میں کشتی حادثہ، 18 تارکین وطن ہلاک، 21 کو بچا لیا گیا

قرن افریقا سے خلیجی ممالک تک خطرناک سفر

عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق قرن افریقا کے علاقے، جس میں ایتھوپیا، صومالیہ، اریٹریا اور جبوتی شامل ہیں، سے ہر سال ہزاروں تارکین وطن بہتر روزگار اور محفوظ زندگی کی امید میں خلیجی ممالک پہنچنے کے لیے خطرناک سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔

یمن اس سفر کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں پہنچنے کے لیے تارکین وطن خلیج عدن کو عبور کرتے ہیں۔ اس راستے پر سفر کرنے والے افراد کو غیر محفوظ کشتیوں، خراب موسم اور سمندری حادثات جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے والے ان افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جس سے ایسے حادثات کے انسانی اثرات مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

غیر محفوظ ہجرت کا سنگین انسانی بحران

جبوتی سے یمن جانے والی کشتی کا حادثہ غیر محفوظ ہجرت کے دوران پیش آنے والے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ 109 افراد کی ہلاکت اور 116 سے زائد افراد کی گمشدگی نے متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ واقعہ اس ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ تارکین وطن کے لیے محفوظ سفری راستوں، انسانی امداد اور اسمگلنگ کے خطرات سے تحفظ کے اقدامات کو مؤثر بنایا جائے، تاکہ بہتر زندگی کی تلاش میں نکلنے والے افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں