وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی ہے۔ حکم نامے کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے، جبکہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشاورتی کونسل ان کی معاونت کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کونسل کی تشکیل کا اعلان کیا اور اس کے ارکان کو ’’شائننگ اسٹارز‘‘ قرار دیا۔
مشاورتی کونسل میں کون کون شامل ہے؟
وفاقی حکومت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا کے لیے قائم کی گئی 11 رکنی مشاورتی کونسل میں درج ذیل افراد شامل ہیں:
- طارق محمود پاشا
- ڈاکٹر عامر عبداللہ
- لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر
- ثمر بلور
- ڈاکٹر سرفراز علی
- عامر جاوید
- ڈاکٹر ایم ارشاد
- کفایت اللہ
- طیب قریشی
- عثمان سیف اللہ خان
- آصف رفیق
حکم نامے کے تحت یہ کونسل گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی امور کی انجام دہی میں معاونت فراہم کرے گی۔ تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں کونسل کے ہر رکن کی انفرادی ذمہ داریوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مسترد، وفاق چند دن میں فیصلہ واپس لے: بیرسٹر گوہر
گورنر کے اختیارات اور صوبائی امور سے متعلق حکم نامہ
وفاقی حکومت کے حکم نامے کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے۔ ان امور کی انجام دہی آئینی دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق ہوگی۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
اس پیش رفت کے تحت صوبائی انتظامی امور میں گورنر کے کردار اور مشاورتی کونسل کی معاونت کو باضابطہ شکل دی گئی ہے۔ اس انتظام کے عملی طریقہ کار اور مختلف محکموں کی ذمہ داریوں سے متعلق مزید تفصیلات اہم ہوں گی۔
ثناء اللہ ایڈووکیٹ ایڈووکیٹ جنرل مقرر
وفاقی حکومت کے حکم نامے کے مطابق ثناء اللہ ایڈووکیٹ کو خیبر پختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل صوبائی حکومت کا اہم قانونی عہدہ ہے، جس سے متعلق ذمہ داریاں قانونی اور آئینی معاملات میں حکومت کی نمائندگی اور رہنمائی سے وابستہ ہوتی ہیں۔
مشاورتی کونسل کے لیے الگ سیکرٹریٹ قائم ہوگا
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ محمد یحییٰ اخونزادہ مشاورتی کونسل کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوں گے۔
ان کے مطابق مشاورتی کونسل کا الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا اور اسے براہ راست فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ کونسل گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کرے گی۔
وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد خیبر پختونخوا میں انتظامی امور کی انجام دہی، مشاورتی کونسل کے کردار اور متعلقہ آئینی و قانونی طریقہ کار پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس انتظام کے عملی اثرات کا انحصار جاری کردہ حکم نامے پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں پر ہوگا۔
