پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کو انتہا پسندی اور بائیکاٹ کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارٹی نے اپنا سیاسی طرزِ عمل نہ بدلا تو عمران خان جیل میں رہنے کے معاملے میں آصف علی زرداری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ بلاول کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جیل جانے والے رہنما بعد میں اقتدار میں بھی آتے رہے ہیں، تاہم اس کے لیے سیاسی رویے میں تبدیلی ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑنے کا مشورہ
اسلام آباد میں اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی اور بائیکاٹ کی سیاست کی وجہ سے تحریک انصاف کے مختلف سیاسی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنا موجودہ سیاسی طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو عمران خان کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑ سکتا ہے اور وہ آصف علی زرداری کے جیل میں رہنے کے ریکارڈ سے آگے نکل سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی روایت میں ایسے رہنماؤں کی مثالیں موجود ہیں جو جیل میں رہنے کے بعد اقتدار تک پہنچے۔ تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر آگے بڑھنے کے لیے انتہا پسندی کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی سیاست پر تنقید
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ منفی سیاست کے راستے پر چل رہے ہیں۔
بلاول نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی لگانے کے لیے تیار تھی، تاہم ان کے مطابق گورنر راج آخری آپشن ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاریاں؟ پہلے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطوں سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں۔ تاہم گورنر راج کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کو بلاول کے بیان سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔
ایم کیو ایم کو بھی تنقید کا نشانہ بنا دیا
بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت یونین کونسل کی نشست حاصل نہیں کر سکتی، وہ صوبے کی بات کر رہی ہے۔
انہوں نے مصطفیٰ کمال اور محسن نقوی کو سندھ کے مختلف شہروں کا دورہ کرنے اور عوام سے یہ پوچھنے کا مشورہ دیا کہ آیا وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔
بلاول کے اس بیان میں ایک طرف پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید کی گئی ہے تو دوسری جانب سندھ میں نئے صوبے کے مطالبے کے معاملے پر ایم کیو ایم کے مؤقف کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ ان کے تبصرے ملکی سیاست میں جاری اختلافات اور صوبائی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
