مذاکرات سے انکار نہیں کیا، بیرسٹر گوہر کا حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کا مطالبہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا ضروری ہے، حکومت مشروط کے بجائے غیر مشروط بات چیت کرے

اسلام آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مذاکرات سے انکار نہیں کر رہی، تاہم حکومت کے ساتھ بات چیت غیر مشروط ہونی چاہیے۔

latest urdu news

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک و قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور موجودہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔

حکومت کی مشروط پیشکش پر پی ٹی آئی کا مؤقف

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مشروط ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سیاسی جماعتیں غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا بلکہ وہ چاہتی ہے کہ بات چیت کسی پیشگی شرط کے بغیر شروع کی جائے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کی جماعت پر مختلف پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، تاہم پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے نکالنے پر یقین رکھتی ہے۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت

بیرسٹر گوہر نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے اور گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔

عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے علاج کے لیے لندن سے کوئی ڈاکٹر نہیں بلایا گیا، کیونکہ متعلقہ ڈاکٹر لاہور میں بھی موجود رہتے ہیں۔

مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بناکر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے: رانا ثنا

حکومتی ارکان سے رابطے جاری ہیں

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کے بعض ارکان سے رابطے موجود ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے بجائے پریس کانفرنسز میں اندرونی معاملات پر گفتگو کی۔ اگر اتنا وقت پریس کانفرنسز پر خرچ کرنے کے بجائے مذاکرات پر لگایا جاتا تو شاید معاملات حل کرنے میں پیش رفت ہوتی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی بات چیت کے راستے کو بند نہیں کرنا چاہتی اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کو اہم سمجھتی ہے۔

محسن نقوی سے ملاقات کی تردید

بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے رات کو کسی ملاقات کی بھی تردید کی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات کے لیے آئے تھے، جہاں آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ علامہ راجا ناصر عباس نے بھی یہ مؤقف درست طور پر بیان کیا ہے کہ مشروط مذاکرات نہیں ہوتے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے کہ سیاسی اور قومی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا ملک کے مفاد میں ہے۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں