ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ خودکش دھماکا، 2 سالہ بچے اور 2 خواتین سمیت 11 افراد شہید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

درازندہ میں انسداد اسمگلنگ چیک پوسٹ کو بارود سے بھری گاڑی سے نشانہ بنانے کی اطلاعات، پولیس اور کسٹمز اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی

latest urdu news

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں مبینہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں 2 سالہ بچے اور 2 خواتین سمیت 11 افراد شہید ہوگئے، جبکہ پولیس اور کسٹمز اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کو ملانے والی شاہراہ پر قائم انسداد اسمگلنگ ’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘ پر ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، جس کے بعد زوردار دھماکا ہوا۔

پولیس اور کسٹمز اہلکار بھی متاثر

ذرائع کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والوں میں پولیس اور کسٹمز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ حملے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کے قریب موجود شہری بھی متاثر ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

30 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں میں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اس لیے حکام کی جانب سے مزید ہلاکتوں کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور حملے میں ملوث عناصر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، حملے میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگالیا گیا

درازندہ میں چیک پوسٹ پر حملہ

ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ انسداد اسمگلنگ کارروائیوں کے سلسلے میں قائم کی گئی تھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ روڈ پر واقع ہونے کے باعث یہ راستہ سیکیورٹی اور نگرانی کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بارود سے بھری گاڑی کو چیک پوسٹ سے ٹکرایا گیا، تاہم حملے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا الزام

ذرائع نے چیک پوسٹ پر حملے کو دہشت گرد عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے مبینہ گٹھ جوڑ سے جوڑا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم حملے کی مکمل ذمہ داری اور اس کے محرکات کے بارے میں حتمی معلومات تحقیقات کے بعد سامنے آسکیں گی۔ سیکیورٹی ادارے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

درازندہ میں پیش آنے والے اس واقعے میں کم عمر بچے اور خواتین سمیت شہریوں کی ہلاکت نے حملے کی سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی اور علاقے میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter