پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال اور پانچ سال کے دوران خرچ ہونے والے ایندھن کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں پر گزشتہ پانچ برس کے دوران ایندھن کے اخراجات کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کا حصہ بن گئی ہیں۔
دستاویز کے مطابق بی آئی ایس پی کے مختلف دفاتر اور علاقائی مراکز میں مجموعی طور پر 75 سرکاری گاڑیاں زیر استعمال ہیں، جنہوں نے پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 8 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زائد ایندھن استعمال کیا۔
بی آئی ایس پی کے پاس کتنی گاڑیاں ہیں؟
پارلیمنٹ میں پیش کی گئی دستاویز کے مطابق بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں 28 سرکاری گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ پنجاب ریجن میں 12 گاڑیاں موجود ہیں۔
اسی طرح سندھ میں 17، خیبر پختونخوا میں 7 اور بلوچستان میں 6 گاڑیاں بی آئی ایس پی کے زیر استعمال ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 5 گاڑیاں مختص ہیں۔
یوں پروگرام کے مرکزی دفتر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ان گاڑیوں کے ذریعے انتظامی اور فیلڈ سے متعلق امور انجام دیے جاتے ہیں۔
پانچ سال میں لاکھوں لیٹر ایندھن استعمال
رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران بی آئی ایس پی کی گاڑیوں نے 8 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زائد ایندھن استعمال کیا۔ دستاویز میں مختلف ریجنز کے ایندھن کے استعمال کی الگ الگ تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
اسلام آباد ریجن میں موجود گاڑیوں نے پانچ سال کے دوران 4 لاکھ 2 ہزار 400 لیٹر ایندھن استعمال کیا، جبکہ پنجاب ریجن کی گاڑیوں کے لیے 1 لاکھ 787 لیٹر سے زائد ایندھن خرچ ہوا۔
دستاویز کے مطابق سندھ ریجن کی گاڑیوں نے اس عرصے میں 18 لاکھ 28 ہزار 850 لیٹر ایندھن استعمال کیا۔
ایندھن کے اخراجات بھی توجہ کا مرکز
سرکاری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی یہ مقدار ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری اداروں کے انتظامی اخراجات اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔ پانچ سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی مختلف ادوار میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث ایندھن کے مجموعی اخراجات میں بھی تبدیلی آتی رہی۔
تاہم، رپورٹ میں دی گئی بعض اعداد و شمار میں بظاہر تضاد بھی نظر آتا ہے۔ مجموعی طور پر 8 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زائد ایندھن کے استعمال کا ذکر ہے، جبکہ ریجن کے لحاظ سے فراہم کردہ اعداد میں سندھ کے لیے 18 لاکھ 28 ہزار 850 لیٹر درج ہے۔ اس لیے حتمی اخراجات یا مجموعی استعمال کے بارے میں مزید وضاحت کے بغیر کسی ایک رقم کو حتمی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ میں پیش کی گئی یہ تفصیلات بنیادی طور پر بی آئی ایس پی کے سرکاری گاڑیوں کے استعمال اور ایندھن کی کھپت سے متعلق ہیں، تاہم یہ اعداد و شمار گاڑیوں کے استعمال کی نگرانی، اخراجات کی جانچ اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق سوالات کو ضرور اجاگر کرتے ہیں۔
