پاکستان کے حمایت یافتہ تینوں امیدوار کامیاب ہوگئے، بنکاک میں ہونے والے اے سی سی کے سالانہ اجلاس میں بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے انتخابات میں پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ پینل کو شکست دے دی۔ بنکاک میں ہونے والے اے سی سی کے سالانہ جنرل اجلاس کے دوران بورڈ میں ڈائریکٹرز کی تین نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان اور بھارت کے حمایت یافتہ پینلز کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق مقابلہ کانٹے دار رہا، تاہم پاکستان کے حمایت یافتہ پینل کے تینوں امیدوار کامیاب ہوگئے۔ اس کامیابی کو ایشین کرکٹ کونسل میں پاکستان کے سفارتی اور انتظامی اثر و رسوخ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان کے حمایت یافتہ پینل میں کون شامل تھا؟
ذرائع کے مطابق اے سی سی کے صدر محسن نقوی کی قیادت میں پاکستان کے حمایت یافتہ پینل میں قطر، سنگاپور اور مالدیپ کے نمائندے شامل تھے۔ تینوں امیدواروں نے ڈائریکٹرز کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
اے سی سی کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع قرار دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے حمایت یافتہ پینل نے بورڈ کی تینوں نشستیں ایک ساتھ حاصل کی ہیں۔ اجلاس میں بھارت کی نمائندگی بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کی۔
اس نتیجے کو پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل ایشیا میں کرکٹ کے فروغ، علاقائی مقابلوں کے انعقاد اور رکن ممالک کے درمیان کرکٹ سے متعلق معاملات کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایشیا کپ کی تیاریوں کا بھی جائزہ
اے سی سی کے سالانہ جنرل اجلاس میں انتخابات کے علاوہ دیگر اہم امور بھی زیر بحث آئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اگلے سال بنگلا دیش میں ہونے والے ایشیا کپ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
ایشیا کپ کے میچز کے لیے سلہٹ، میرپور اور چٹوگرام کے وینیوز تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم، وینیوز اور دیگر انتظامی معاملات سے متعلق حتمی فیصلے اے سی سی اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
ایشین کرکٹ کونسل نے پاکستان بمقابلہ یو اے ای میچ کی پوسٹ اچانک ڈیلیٹ کر دی
اجلاس میں ایشین کرکٹ کونسل کے سالانہ بجٹ پر بھی گفتگو کی گئی اور تنظیم کے آئندہ کے انتظامی و مالی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
دبئی میں ویمنز ایشیا کپ پر بھی گفتگو
سالانہ اجلاس کے دوران خواتین کے ایشیا کپ سے متعلق انتظامات بھی زیر غور آئے۔ ذرائع کے مطابق دبئی میں ہونے والے ویمنز ایشیا کپ کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر متعلقہ امور پر بھی ارکان نے تبادلہ خیال کیا۔
خواتین کے ایشیا کپ کا انعقاد بھی ایشیائی کرکٹ کیلنڈر میں اہم ایونٹ سمجھا جاتا ہے، اس لیے اے سی سی اجلاس میں اس کے انتظامی معاملات پر بھی توجہ دی گئی۔
ایشین کرکٹ میں پاکستان کا بڑھتا کردار
پاکستان کے حمایت یافتہ پینل کی تینوں نشستوں پر کامیابی کو ذرائع نے اے سی سی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مظہر قرار دیا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب ایشیائی کرکٹ میں پاکستان اور بھارت دونوں بڑے اور بااثر کرکٹ ممالک ہیں، بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی اہمیت رکھتی ہے۔
تازہ انتخابی نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے مختلف رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط اور تعاون بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اے سی سی میں پالیسی سازی اور مستقبل کے فیصلوں پر اس کامیابی کے عملی اثرات کا اندازہ آئندہ اجلاسوں اور فیصلوں سے ہوگا۔
بنکاک کا یہ اجلاس یوں بھی اہم رہا کہ انتخابات کے ساتھ ایشیا کپ، ویمنز ایشیا کپ اور تنظیم کے بجٹ سمیت ایشیائی کرکٹ سے متعلق متعدد اہم معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
